عائشہ گیلہ منہ کیس: راولپنڈی پولیس کا خیبرپختونخوا پولیس سے رابطہ، 4 مشتبہ افراد گرفتار
راولپنڈی: ٹیکسلا میں معروف ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گیلہ منہ کے مبینہ قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ راولپنڈی پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے خیبرپختونخوا پولیس سے باقاعدہ رابطہ کرلیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ میں ملوث مطلوب ملزمان کا تعلق دیر سے بتایا جا رہا ہے۔ ملزمان کی تصاویر اور دیگر معلومات خیبرپختونخوا پولیس کو فراہم کردی گئی ہیں، جبکہ راولپنڈی پولیس کی خصوصی ٹیم کارروائی کے لیے جلد دیر پہنچنے کا امکان ہے۔
سیف سٹی اور سی سی ٹی وی کی مدد سے کارروائی
پولیس کے مطابق کیس کی تفتیش کے دوران سیف سٹی کیمروں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تفتیشی ٹیموں نے فرار ملزمان کے دو مبینہ سہولت کاروں سمیت 4 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد سے مزید تفتیش جاری ہے اور ان سے مبینہ ملزمان کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
واردات میں استعمال موٹر سائیکل پر نمبر پلیٹ نہیں تھی
پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل پر کوئی نمبر پلیٹ موجود نہیں تھی، جبکہ موٹر سائیکل سواروں نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے۔
تفتیشی ٹیمیں سیف سٹی اور دیگر کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ملزمان کی نقل و حرکت اور فرار کے راستے کا سراغ لگایا جاسکے۔
14 اگست کو فائرنگ کا واقعہ پیش آیا
پولیس کے مطابق واقعہ 14 اگست کو پیش آیا۔ مقتولہ شمسو بی بی کو کاشف عرف کاشی نامی شخص کی جانب سے مبینہ طور پر فون کال موصول ہوئی، جس میں انہیں فوری طور پر گھر سے باہر آنے کا کہا گیا۔
اس کے بعد شمسو بی بی اپنے بھائی نعمت اللہ اور 15 سالہ بہن عاصمہ کے ہمراہ گاڑی میں روانہ ہوئیں۔ پٹرول پمپ کے قریب موٹر سائیکل سوار افراد نے ان کی گاڑی پر مبینہ طور پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے دوران ایک گولی شمسو بی بی کی گردن میں لگی، جس کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔ فائرنگ کے بعد گاڑی بے قابو ہوکر دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں ان کی 15 سالہ بہن عاصمہ شدید زخمی ہوگئیں۔
دیر میں کارروائی کی تیاری
راولپنڈی پولیس نے واقعے کی تفتیش کے سلسلے میں خیبرپختونخوا پولیس سے رابطہ کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مطلوب ملزمان کے دیر سے تعلق کی معلومات کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور گرفتار مشتبہ افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔








