بجلی مناسب قیمت پر صارفین تک پہنچانے کے لیے مربوط توانائی پلان کی منظوری
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا، جس میں پاور ڈویژن کی جانب سے نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2023-2027 میں ترامیم پیش کی گئیں۔ کابینہ کمیٹی نے ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے حکومت خیبر پختونخوا اور نیپرا سے مزید مشاورت کی ہدایت کردی۔
توانائی کے مربوط منصوبہ بندی کے لیے اہم فیصلے
منظور کی گئی ترامیم میں توانائی کے شعبے کے لیے مربوط منصوبہ بندی، بجلی کی پیداوار میں اضافے، دور دراز علاقوں میں قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی فراہمی اور بجلی کی کراس بارڈر تجارت سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بجلی کے ترسیلی نظام میں توسیع، ٹیرف ڈیزائن، بجلی کی بچت، سسٹم اور مارکیٹ آپریشنز، خطرات کی نشاندہی اور توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی توجہ دی جائے گی۔
بجلی مناسب قیمت پر فراہم کرنے کی حکمت عملی
کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کیے گئے مربوط توانائی پلان کے ہائی لیول ڈیزائن کی منظوری دے دی۔
پلان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا۔ اس کا بنیادی مقصد ملک میں انرجی سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور بجلی و توانائی کے شعبے میں معاشی مسابقت کو فروغ دینا ہے۔
منصوبے کے تحت صنعتی اور گھریلو صارفین کو بجلی مناسب قیمتوں پر فراہم کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے گی، جبکہ بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کو فروغ دینے کا فیصلہ
مربوط توانائی پلان میں کم کاربن اخراج والی توانائی اور بجلی کی پیداوار کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ماحول دوست اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے توانائی کے ذرائع کے استعمال کو بڑھانے کی حکمت عملی بھی شامل ہوگی۔
حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں تحقیق و ترقی، ڈیجیٹائزیشن اور مقامی سطح پر ایندھن و ٹیکنالوجی کی استعداد بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
بجلی اور گیس کے گردشی قرضوں پر بریفنگ
اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے سے متعلق مالی سال 2025-26 کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
اسی طرح کابینہ کمیٹی کو پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے سے متعلق مالی سال 2025-26 کی رپورٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔
حکام کے مطابق توانائی کے شعبے میں مربوط منصوبہ بندی کا مقصد بجلی کی دستیابی، قیمتوں میں بہتری اور ملک کی مجموعی توانائی سیکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔








