مصطفیٰ کمال کا ڈیولوشن کا نعرہ مذاق ہے، سندھ حکومت
کراچی: ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے انتظامی یونٹس اور ڈیولوشن سے متعلق بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی محکمے پر قابض ہوکر ڈیولوشن کا نعرہ لگانا مذاق ہے۔
سعدیہ جاوید نے کہا کہ مصطفیٰ کمال خود ایسی وزارت میں بیٹھے ہیں جو بنیادی طور پر صوبائی معاملہ ہے، اس لیے ڈیولوشن کی بات کرنے والوں کو پہلے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے بقول صوبائی محکمے پر اختیار برقرار رکھتے ہوئے اختیارات کی منتقلی کی بات کھلے تضاد کے مترادف ہے۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ وفاق کو پہلے سندھ کے ساتھ اپنے رویے اور کیے گئے وعدوں کا حساب دینا چاہیے۔ سندھ کے اہم ترقیاتی منصوبے طویل عرصے سے التوا کا شکار ہیں، لیکن وفاقی ترجیحات میں صوبے کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔
سعدیہ جاوید نے حیدرآباد، سکھر موٹروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ برسوں سے زیر التوا ہے، جبکہ دوسری جانب سیالکوٹ، لاہور موٹروے کے لیے نئی فنڈنگ کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حیدرآباد، سکھر موٹروے مکمل کیے بغیر دوسرے منصوبے کے لیے فنڈنگ کرنا وفاقی حکومت کی ترجیحات اور دہرے معیار پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق کراچی کی بندرگاہوں سے حیدرآباد اور سکھر تک اہم زمینی رابطے کی خراب صورتحال عوام، مسافروں اور کاروباری طبقے کے لیے مسلسل مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ ایک طرف ڈیولوشن کے نعرے لگائے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب سندھ کے دیرینہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے، وفاق کا یہ طرزِ عمل صوبے میں احساس محرومی کو مزید بڑھا رہا ہے۔








