آئی ایم ایف کی شرائط پر بجٹ سسٹم میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ
اسلام آباد:ویب ڈیسک
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت حکومت نے بجٹ سسٹم میں بڑی اصلاحات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد جلد پاکستان آئے گا تاکہ بجٹ کی تیاریوں اور اصلاحات کا جائزہ لے سکے۔
حکام وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے گا، بجٹ فیصلوں میں تاخیر کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے اور نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تجاویز پر کام جاری ہے۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ پارلیمانی منظوری کے بغیر اضافی گرانٹس کے اجرا پر پابندی برقرار رہے گی، اور ٹیکس پالیسی آفس کو فعال کر دیا گیا ہے تاکہ بار بار بجٹ میں تبدیلیوں کو روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی اخراجات اور بجٹ میں ہم آہنگی بہتر بنائی جائے گی اور بجٹ بنانے کا طریقہ مزید شفاف ہوگا۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں ہنگامی فنڈ بھی رکھا جائے گا، جس کے لیے رواں مالی سال 300 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ بجٹ اصلاحات کی ذمہ داری وزارت خزانہ کے متعلقہ دفاتر کو سونپ دی گئی ہے اور بجٹ پر مکمل کنٹرول کے لیے نئے اصول متعارف کرائے جائیں گے۔
حکام نے مزید کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت سرمایہ کاروں اور عالمی اداروں کا اعتماد بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ رواں مالی سال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگانا پڑا، تاہم آئندہ سال ترقیاتی منصوبوں کو سال کے درمیان کٹوتیوں سے بچانے کی کوشش کی جائے گی۔








