امریکا ایران معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد تک گر گئیں
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی امیدیں قرار دی جارہی ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے ستمبر کے سودوں کی قیمت 3.20 ڈالر یعنی 3.27 فیصد کمی کے بعد 94.61 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 3.71 ڈالر یعنی 3.86 فیصد کمی کے بعد 92.31 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
آبنائے ہرمز کھلنے کی امید
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کی اہم وجہ سرمایہ کاروں کی یہ توقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کسی معاہدے یا جنگ بندی کے ذریعے کم ہوسکتی ہے۔ اس پیش رفت کی صورت میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی عالمی ترسیل معمول پر آنے کی امید ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس راستے پر بحری آمدورفت معمول پر آنے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوسکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے آثار
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی اطلاعات نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کو کچھ اطمینان فراہم کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بھی نسبتاً کم ہوا ہے، جس کا براہِ راست اثر خام تیل کی قیمتوں پر پڑا۔
گزشتہ ہفتے قیمتوں میں بڑا اضافہ
اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
تاہم مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت اور آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیاں بحال ہونے کی امید نے سرمایہ کاروں کے خدشات کم کیے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔








