باجوڑ: نامعلوم افراد نے گورنمنٹ پرائمری سکول لوئی خرکی کو دھماکے سے تباہ کر دیا، تحقیقات کا آغاز
باجوڑ: ضلع باجوڑ کی تحصیل وڑہ ماموند میں واقع گورنمنٹ پرائمری سکول لوئی خرکی کو گزشتہ رات نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ خوش قسمتی سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مقامی ذرائع کے مطابق دھماکا رات کے وقت اس وقت ہوا جب سکول بند تھا، جس کے باعث طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملہ محفوظ رہا۔ تاہم دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ سکول کی عمارت کے مختلف حصے منہدم ہو گئے، جبکہ کلاس رومز، دیواروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے، جبکہ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی موقع کا معائنہ کیا تاکہ دھماکے کی نوعیت اور استعمال کیے گئے مواد کا تعین کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کی مدد سے ذمہ دار عناصر تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاحال کسی فرد یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مقامی رہائشیوں نے اس واقعے پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو ہر صورت محفوظ بنایا جائے اور اس حملے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم دشمن کارروائیاں نہ صرف بچوں کے مستقبل پر حملہ ہیں بلکہ علاقے کے امن اور ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی ضلع باجوڑ میں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنائے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ساتھ ہی سکول کی بحالی اور طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں جلد از جلد دوبارہ شروع کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے مشاورت جاری ہے۔








