را، افغان طالبان اور دہشتگرد نیٹ ورک سے متعلق اہم دعوے

را، افغان طالبان اور دہشتگرد نیٹ ورک سے متعلق اہم دعوے

اسلام آباد: پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت سے منسلک ایک مبینہ نیٹ ورک بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کو معاونت فراہم کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت دیگر گروہوں کو افغانستان میں مبینہ طور پر تربیت، مالی معاونت اور پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔

پاکستانی حکام طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی سمیت بعض عسکریت پسند گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ سے متعلق رپورٹس میں بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز اور القاعدہ سمیت دیگر گروہوں کے ساتھ روابط کا ذکر ملتا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت بھی بعض دہشتگرد گروہوں کو بیرون ملک سے مبینہ معاونت فراہم کرتا ہے۔ تاہم بھارت اور افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

دستاویز میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان مبینہ رابطوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں سکیورٹی حکام کے مطابق دونوں گروہوں کے درمیان تعاون میں گزشتہ عرصے کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب دستیاب بین الاقوامی رپورٹس میں ٹی ٹی پی کے افغانستان میں موجودگی، تربیتی مراکز اور افغان طالبان کے ساتھ اس کے روابط سے متعلق مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم را، افغان طالبان، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان مکمل اور مستقل مشترکہ نیٹ ورک کے دعوے کی آزادانہ طور پر تمام تفصیلات کی تصدیق نہیں ہوئی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی افغانستان سے دہشتگرد گروہوں کی مبینہ سرگرمیوں کا معاملہ مسلسل اٹھایا جا رہا ہے۔

More News