سعودی عرب کا پاکستان کے لیے بڑا مالی سہارا، 3 ارب ڈالر قرض رول اوور

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے بڑا مالی سہارا، 3 ارب ڈالر قرض رول اوور، زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام ملنے کی توقع

اسلام آباد: سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے قرض کو رول اوور کر دیا ہے، جس سے ملک کی بیرونی مالی پوزیشن کو اہم سہارا ملے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کی زرمبادلہ کی صورتحال مزید مستحکم ہوگی اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔

حکام کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے قرض رول اوور کیے جانے سے نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملے گی بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات پاکستان کی معاشی ساکھ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق رول اوور کیا جانے والا 3 ارب ڈالر کا قرض دراصل وہ مالی سہولت ہے جو پاکستان کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے متعلق واجبات کی ادائیگی کے لیے فراہم کی گئی تھی۔ اس قرض کی ابتدائی مدت تین ماہ مقرر کی گئی تھی، تاہم اب سعودی حکومت نے اس کی مدت میں مزید توسیع کرتے ہوئے اسے دوبارہ رول اوور کر دیا ہے، جس سے پاکستان کو فوری طور پر بڑی مالی سہولت حاصل ہوئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اس فیصلے کے بعد پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق مختلف رول اوور انتظامات کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوا ہے اور حکومت کو قلیل مدت میں واجب الادا بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے خاطر خواہ ریلیف ملا ہے۔

مالی حکام کے مطابق اس وقت سعودی عرب کے پاکستان میں مجموعی ڈپازٹس 8 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو دونوں برادر ممالک کے مضبوط اقتصادی تعلقات اور سعودی حکومت کے پاکستان پر اعتماد کا واضح اظہار ہیں۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی مالی سہولت حاصل کی تھی، جسے اب دوبارہ رول اوور کر دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بھی تقریباً نصف ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے حکومتی مالی بوجھ کم ہوگا اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید وسائل دستیاب ہونے کی توقع ہے۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان جولائی کے دوران 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس بھی کر چکا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے قرض رول اوور کیے جانے سے پاکستان کی ادائیگیوں کی صلاحیت مضبوط ہوگی، زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام ملے گا اور عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بہتر ہونے کا امکان ہے۔

More News