شیر افضل مروت کی پی ٹی آئی قیادت پر تنقید، نئے صوبوں کے قیام کی حمایت
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نہ 27 ستمبر آئے گی اور نہ ہی احتجاج ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ قیادت احتجاج کی سیاست مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور عوام کو متحرک کرنے میں ناکام ہے۔
اپنے بیان میں شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر انہیں احتجاج کی ذمہ داری واپس دی جائے تو وہ ملک بھر سے عوام کو متحرک کرسکتے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر زور دیا کہ عوام کو مسلسل احتجاج کی تاریخوں کے انتظار میں رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت نہ مؤثر احتجاج کر سکتی ہے اور نہ ہی لوگوں کی بڑی تعداد کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بعض فیصلے بھی ان کی موجودہ صورتحال کی ایک وجہ بن رہے ہیں۔
نئے صوبوں کی حمایت
شیر افضل مروت نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی امور عوام کے قریب لانے کے لیے سرائیکستان، ہزارہ اور دیگر نئے صوبے بنائے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق شہریوں کو معمولی کاموں کے لیے پشاور یا لاہور کا سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کا وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی صرف لاہور یا پشاور تک محدود رکھنے سے دیگر علاقوں میں محرومی بڑھ سکتی ہے، جو دہشتگردی جیسے مسائل کو بھی تقویت دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے غیر معمولی اخراجات ضروری نہیں، کیونکہ متعلقہ علاقوں سے حاصل ہونے والا ریونیو انہی کی ترقی پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
ملتان کی مثال
شیر افضل مروت نے ملتان کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر اپنی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کے باوجود دیگر بڑے شہروں سے پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے سیالکوٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں نے اسے ترقی دی، جبکہ ملتان کو بھی اپنی صلاحیت کے مطابق ترقی کے مواقع ملنے چاہئیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان ماضی میں دو تہائی اکثریت ملنے کی صورت میں ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دینے کی کوشش کی بات کرچکے ہیں۔ انہوں نے سندھ میں بھی مزید صوبوں کی تشکیل اور کراچی و حیدرآباد سمیت مختلف علاقوں پر زیادہ انتظامی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔








