ضلع ٹانک میں فائرنگ سے الیکشن کمیشن کے ڈی جی شمشاد اختر شہید

ضلع ٹانک میں فائرنگ سے الیکشن کمیشن کے ڈی جی شمشاد اختر شہید

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل شمشاد اختر ضلع ٹانک میں دہشت گردی کے ایک واقعے کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے 10 اکتوبر 2026 کو جاری پریس ریلیز کے مطابق شہید شمشاد اختر ایک دیانت دار، شریف النفس اور فرض شناس افسر تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی اور واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا گیا ہے۔

پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ شمشاد اختر اپنے ساتھیوں اور رفقائے کار میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی شہادت پر الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام اور ملازمین نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمیشن کے ارکان، سیکرٹری اور دیگر ملازمین نے شہید کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ اس مشکل وقت میں سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اہلِ خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو دہشت گردی کے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ادارے کے مطابق سرکاری افسران اور ملازمین اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران تحفظ کے مستحق ہیں، اس لیے ان کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں۔

ضلع ٹانک سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ سرکاری افسران پر حملے نہ صرف ان کے خاندانوں بلکہ سرکاری اداروں کے لیے بھی باعثِ تشویش ہیں۔

تاہم اس واقعے میں ملوث ملزمان کی شناخت، حملے کے محرکات اور مزید تفصیلات کے بارے میں پریس ریلیز میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کی نشاندہی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

More News

Breaking

خیبر پختونخوا کے 14 سرکاری محکموں میں 3 ارب 58 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ میں سنگین اعتراضات

پی ٹی آئی دورِ حکومت کے دوران سرکاری محکموں میں مبینہ مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی، مشکوک ٹھیکوں، اضافی ادائیگیوں اور غیر مجاز اخراجات نے

Read More »