ضم اضلاع میں 16 ارب روپے کے 88 پولیس ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ
پشاور:سید عدنان
خیبرپختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے مالی تعاون سے تقریباً 16 ارب روپے کی لاگت سے 88 پولیس ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے، جن میں سے 48 منصوبوں پر پہلے ہی کام جاری ہے۔
اجلاس میں پولیس لائنز، تھانوں، چوکیوں، پولیس پوسٹس اور ضلعی پولیس افسران کی سرکاری رہائش گاہوں کے لیے اراضی کے حصول اور تعمیراتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے ضم اضلاع باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، جنوبی وزیرستان لوئر، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مکمل کیے جائیں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبوں کی راہ میں حائل اراضی کے حصول، ملکیتی تنازعات، سائٹ کی منتقلی اور دیگر انتظامی مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ، ریونیو حکام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ جاری ہے، جبکہ متعدد منصوبوں کے لیے متبادل مقامات کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے۔
آئی جی پی ذوالفقار حمید نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرکے منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے جاری منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ ضم اضلاع میں پولیس فورس کو جدید اور مؤثر انفراسٹرکچر فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی جی پی نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل مؤثر انداز میں بروئے کار لانے پر زور دیا۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی تعمیر و بحالی کے لیے تاریخ میں پہلی بار وفاقی حکومت کے تعاون سے 16 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم میں سے 2 ارب 25 کروڑ روپے اراضی کی خریداری جبکہ 14 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد تعمیراتی کاموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوارٹرز عباس احسن، ڈی جی پی سی یو شوکت عباس، ڈی آئی جی فنانس اینڈ پروکیورمنٹ محمد کاشف مشتاق کانجو، 11 کور کے اعلیٰ افسران سمیت متعلقہ ریجنل پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی بہتری، عوامی خدمات کے معیار میں اضافے اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام ادارے باہمی تعاون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے








