اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے بوجھ کو کم کرنے اور اس میں صوبوں کو شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا، اس سلسلے میں صدر مملکت آصف علی زرداری کو اعتماد میں لینے کے لیے آج اہم ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آج شام ایوانِ صدر میں صدر مملکت سے ملاقات کریں گے، جس میں پیٹرولیم سبسڈی کے حوالے سے اہم مشاورت کی جائے گی۔ حکومت چاہتی ہے کہ صوبائی حکومتیں بھی سبسڈی کے بوجھ میں حصہ ڈالیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اب تک پیٹرولیم مصنوعات پر تقریباً 100 ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے، جس سے ملک بھر کے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ تاہم بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے پیش نظر وفاق صوبوں کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
دوسری جانب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی منصفانہ تقسیم کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی موبائل ایپ تیار کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے صارفین رجسٹریشن کر سکیں گے۔ شہری اپنی گاڑی کا نمبر اور شناختی کارڈ نمبر درج کر کے ایپ میں اندراج کروائیں گے۔
ذرائع کے مطابق اس ایپ کے ذریعے ہر شہری کے لیے اس کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق پیٹرول یا ڈیزل کا کوٹہ مقرر کیا جائے گا، اور صارفین کو روزانہ کی بنیاد پر طے شدہ مقدار فراہم کی جائے گی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے تقابلی جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ان کے استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث حکومت کو نئے اقدامات کی ضرورت پیش آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف صدر مملکت کو سبسڈی میں صوبوں کی شمولیت اور ڈیجیٹل راشن بندی کے نظام پر اعتماد میں لیں گے تاکہ ان اقدامات کو جلد عملی شکل دی جا سکے۔








