حکومتی اشارے کا انتظار، مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بیرسٹر گوہر
راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے تاحال کوئی واضح اشارہ نہیں ملا، تاہم پی ٹی آئی سیاسی مسائل کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے لیے تیار ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے، تاہم اصل ضرورت عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہیں ہو سکیں، جس پر پارٹی کو شدید تحفظات ہیں۔
انہوں نے 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد فتح کرنے یا اڈیالہ جیل کے دروازے توڑنے نہیں آرہی بلکہ اپنے آئینی اور سیاسی حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کرے گی۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق احتجاجی قافلے کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کریں گے، جبکہ احتجاج کے دوران کسی قسم کے تشدد یا سرکاری اور صوبائی وسائل کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کم کرنے اور اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے سیاسی مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں ہسپتال منتقل کرکے علاج کرایا جائے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات کے لیے عدالتوں، پارلیمنٹ اور سینیٹ سمیت مختلف فورمز سے رجوع کیا، لیکن ان کے بقول ان کی بات نہیں سنی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات کے لیے آگے بڑھتی ہے تو پی ٹی آئی بات چیت کے لیے تیار ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی احتجاج کے معاملے پر دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی خواہاں ہے، کیونکہ ملک کو موجودہ سیاسی تناؤ سے نکالنے کے لیے وسیع سیاسی مکالمہ ضروری ہے۔








