نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے لیے اے آئی کے استعمال پر ایک سال کی پابندی

نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے لیے اے آئی کے استعمال پر ایک سال کی پابندی

نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے سرکاری پرائمری اور مڈل اسکولوں کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر ایک سال کی پابندی کا اعلان کردیا ہے، جس سے آٹھویں جماعت تک تقریباً 6 لاکھ طلبہ متاثر ہوں گے۔

امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک سٹی کا یہ فیصلہ کسی بڑے امریکی اسکول ڈسٹرکٹ کی جانب سے طلبہ کے اے آئی استعمال کے خلاف اب تک کے سخت ترین اقدامات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے لیے استعمال ہونے والے تقریباً 40 اے آئی تعلیمی ٹولز کا استعمال روک دیا جائے گا۔

میئر ظہران ممدانی نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو سیکھنے اور بہتر نشوونما کے لیے اساتذہ اور انسانی رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کو اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ مہارتیں سیکھنے، اساتذہ کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے اور مشکل مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔

نئی پالیسی کے تحت ہائی اسکول کے طلبہ کو مخصوص حالات میں اے آئی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ انہیں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق آگاہی و تربیتی کلاسز بھی فراہم کی جائیں گی۔ تاہم اے آئی چیٹ بوٹس پر تمام جماعتوں کے لیے پابندی برقرار رہے گی۔

دوسری جانب اساتذہ کو سبق کی منصوبہ بندی اور بعض انتظامی امور کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ خصوصی ضروریات رکھنے والے طلبہ اور بعض مخصوص تعلیمی پروگراموں کے لیے بھی پالیسی میں استثنا رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ نیویارک کے سرکاری اسکول اس سے قبل 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے استعمال پر عارضی پابندی عائد کرچکے ہیں، تاہم بعد میں یہ پابندی ختم کردی گئی تھی۔

نئے فیصلے کے تحت حکام آئندہ ایک سال کے دوران کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کے اثرات کا جائزہ لیں گے اور اس تجربے کی بنیاد پر مستقبل میں اے آئی سے متعلق تعلیمی پالیسی کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

More News

Breaking

خیبرپختونخوا میں ماحولیاتی تحفظ ادارے کے اہلکاروں پر چیف سیکرٹری کے نام پر مبینہ وصولیوں کا الزام

خیبرپختونخوا میں ماحولیاتی تحفظ ادارے کے اہلکاروں پر چیف سیکرٹری کے نام پر مبینہ وصولیوں کا الزام پشاور: خیبرپختونخوا میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ادارے

Read More »