پاکستان میں بڑے آتشزدگی کے سانحات، ماضی کے واقعات کی تلخ یادیں تازہ

پاکستان میں بڑے آتشزدگی کے سانحات، ماضی کے واقعات کی تلخ یادیں تازہ

اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے پاکستان میں پیش آنے والے ماضی کے بڑے آتشزدگی کے سانحات کی یاد تازہ کردی ہے۔ مختلف ادوار میں فیکٹریوں، اسپتالوں، ہوٹلوں، بازاروں اور دیگر مقامات پر آتشزدگی کے واقعات میں سیکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

2016 میں کراچی کے ریجنٹ پلازا ہوٹل میں آتشزدگی سے 12 افراد جاں بحق اور 75 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ تحقیقات میں فائر الارم، ہیٹ سینسرز اور دیگر حفاظتی انتظامات میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ اسی سال بلوچستان کے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں آئل ٹینکر توڑنے کے دوران دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 30 سے زائد مزدور جاں بحق ہوئے۔

2017 میں بہاولپور میں آئل ٹینکر الٹنے کے بعد جمع ہونے والے تیل میں آگ لگنے سے بڑا سانحہ پیش آیا۔ اس واقعے میں کم از کم 200 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی سال اسلام آباد کے ایچ نائن اتوار بازار میں آتشزدگی سے 550 سے زائد اسٹال جل گئے۔

2018 میں پشاور کے ہوٹل آفندی میں گیس دھماکے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ لاہور کی جوتوں کی فیکٹری میں آگ سے ایک شخص جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے۔

2019 میں تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی کا ہولناک واقعہ پیش آیا، جس میں کم از کم 75 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوئے۔ ابتدائی طور پر سلنڈر اور چولہے کو آگ کی وجہ قرار دیا گیا، جبکہ بعد کی تحقیقات میں الیکٹرک وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کی نشاندہی کی گئی۔

پمز سانحے کے بعد ایک بار پھر سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ماضی کے واقعات سے کوئی سبق سیکھا گیا؟ بڑے سانحات کے بعد تحقیقات اور انکوائریوں کے اعلانات تو ہوتے ہیں، تاہم فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، آلات کی دیکھ بھال اور حفاظتی نظام میں مستقل بہتری اب بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

More News