پاکستان کا حیران کن دفاعی کارنامہ، پرندے کی شکل کا جاسوس ڈرون پہلی بار منظرعام پر
پاکستان نے انڈس راس ایکسپو میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی ایک منفرد مثال پیش کرتے ہوئے پرندے کی شکل کا بائیو انسپائرڈ جاسوس ڈرون متعارف کرا دیا، جس نے نمائش میں شریک افراد اور دفاعی ماہرین کی توجہ حاصل کرلی۔
جدید ٹیکنالوجی سے تیار کیے گئے اس ڈرون کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ دورانِ پرواز یہ ایک حقیقی پرندے جیسا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی منفرد ساخت اور پرواز کا انداز اسے قدرتی ماحول میں گھلنے ملنے میں مدد دیتا ہے، جس کے باعث یہ نگرانی اور معلومات کے حصول سے متعلق مختلف مشنز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بائیو انسپائرڈ ٹیکنالوجی دنیا بھر میں تیزی سے توجہ حاصل کر رہی ہے، جس میں قدرتی مخلوقات کی ساخت اور حرکات سے متاثر ہوکر جدید نظام تیار کیے جاتے ہیں۔ پرندے کی شکل کے ایسے ڈرونز حساس علاقوں کی نگرانی اور مختلف آپریشنل ضروریات کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ ان کی ظاہری شکل انہیں عام پرندوں سے مشابہ بناتی ہے۔
انڈس راس ایکسپو میں پیش کیے گئے اس ڈرون کو پاکستان کی دفاعی صنعت میں جدید تحقیق اور مقامی تکنیکی صلاحیتوں کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ڈرون کی مکمل تکنیکی خصوصیات، پرواز کی حد، برداشت اور دیگر آپریشنل تفصیلات کے بارے میں تاحال باضابطہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔








