یوٹیوب کے بعد ’بلی بلی‘ کمائی کا نیا ذریعہ؟ کریئیٹرز کیلئے آمدن کا نیا راستہ کھل گیا

یوٹیوب کے بعد ’بلی بلی‘ کمائی کا نیا ذریعہ؟ کریئیٹرز کیلئے آمدن کا نیا راستہ کھل گیا

چینی ویڈیو پلیٹ فارم ’بلی بلی‘ کی عالمی سطح پر توسیع، تخلیق کاروں کو بہتر معاوضے کی پیشکش کی اطلاعات

کراچی: یوٹیوب کے متبادل کے طور پر پہچانے جانے والے چین کے مقبول ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’بلی بلی‘ (Bilibili) نے عالمی سطح پر اپنی موجودگی بڑھانے کی کوششیں تیز کردی ہیں، جس کے باعث دنیا بھر کے کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے کمائی کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بلی بلی مبینہ طور پر تخلیق کاروں کو ہر ایک ہزار ویوز پر تقریباً 0.70 امریکی ڈالر ادا کرنے کی پیشکش کر رہی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 194 روپے بنتے ہیں۔ تاہم اس معاوضے اور ادائیگی کے طریقہ کار کی باضابطہ تصدیق کمپنی کی جانب سے نہیں کی گئی، اس لیے اسے حتمی رقم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

چینی میڈیا کے مطابق بلی بلی نے اپنے بین الاقوامی ورژن میں متعدد تبدیلیاں کی ہیں تاکہ غیر ملکی صارفین اور کریئیٹرز کے لیے پلیٹ فارم کا استعمال آسان بنایا جاسکے۔ ان تبدیلیوں میں رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانا، لازمی شناختی تصدیق ختم کرنا اور بیرون ملک صارفین کے لیے مقامی نوعیت کا تجربہ فراہم کرنا شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق کمپنی عالمی تخلیق کاروں کو پلیٹ فارم کی جانب راغب کرنے اور یوٹیوب کے مقابلے میں بہتر مالی مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بلی بلی نے 2009 میں کام شروع کیا تھا اور وقت کے ساتھ چین میں نوجوان صارفین کے درمیان خاصی مقبولیت حاصل کی۔ کمپنی کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 350 ملین سے زائد بتائی جاتی ہے، جبکہ بعض حالیہ دعووں میں یہ تعداد 370 ملین سے بھی زیادہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

عالمی سطح پر بلی بلی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ معروف یوٹیوبر اور کریئیٹر مسٹر بیسٹ نے 2024 میں اس پلیٹ فارم پر مواد پوسٹ کرنا شروع کیا، جہاں ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً 8.8 ملین بتائی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بلی بلی کی کشش صرف ممکنہ مالی فوائد تک محدود نہیں بلکہ پلیٹ فارم نے گیمنگ، اینیمیشن، اے آئی اور دیگر مخصوص شعبوں میں مضبوط کمیونٹیز قائم کر رکھی ہیں۔ اس وجہ سے ان شعبوں سے وابستہ عالمی کریئیٹرز کے لیے بلی بلی ایک نئی بڑی ناظرین کمیونٹی تک رسائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

تاہم یوٹیوب کا حقیقی عالمی متبادل بننا بلی بلی کے لیے آسان نہیں ہوگا، کیونکہ یوٹیوب پہلے ہی دنیا بھر میں تخلیق کاروں، ناظرین اور مشتہرین کا ایک وسیع نیٹ ورک رکھتا ہے۔

بلی بلی کی ایک نمایاں خصوصیت ’ڈان مو‘ یا بلٹ کمنٹس ہیں، جن میں ناظرین کے تبصرے ویڈیو چلنے کے دوران ہی اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں۔ یہ فیچر صارفین کو ویڈیو دیکھنے کے ساتھ ساتھ براہِ راست کمیونٹی کا حصہ بننے کا احساس دیتا ہے۔

اگر بلی بلی عالمی سطح پر صارفین اور کریئیٹرز کی تعداد بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہے تو آن لائن ویڈیو مارکیٹ میں مسابقت مزید بڑھنے اور تخلیق کاروں کے لیے آمدن کے نئے راستے کھلنے کا امکان ہے۔

More News