جین زی کے دور میں بڑی عمر کے ملازمین کی طلب میں اضافہ

جین زی کے دور میں بڑی عمر کے ملازمین کی طلب میں اضافہ

لندن: دنیا بھر میں ملازمتوں کے بدلتے رجحانات کے باعث بڑی عمر کے افراد، خصوصاً 50 سال سے زائد عمر کے کارکنوں کی پیشہ ورانہ اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایئرلائنز سمیت مختلف ادارے اب تجربہ کار ملازمین کو ترجیح دے رہے ہیں، جن کی رابطہ کاری، مسائل حل کرنے اور دباؤ میں پرسکون رہنے کی صلاحیتیں اداروں کے لیے قیمتی ثابت ہو رہی ہیں۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 64 سالہ فرانسسکا ہکس اس رجحان کی نمایاں مثال ہیں۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے کے بعد انہوں نے 60 سال سے زائد عمر میں فلائٹ اٹینڈنٹ بننے کے لیے درخواست دی۔ ان کے مطابق ملازمت کی تلاش کے دوران انہیں عمر کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ایزی جیٹ کی بھرتی مہم نے انہیں نیا کیریئر شروع کرنے کا موقع فراہم کیا۔

تربیت مکمل کرنے کے بعد فرانسسکا گزشتہ 19 ماہ سے کیبن کریو کا حصہ ہیں اور اب تک تقریباً 270 پروازوں میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہ 23 ممالک کا سفر بھی کرچکی ہیں اور 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہوا بازی کے شعبے میں آنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

ایزی جیٹ کے مطابق کمپنی میں 50 سال سے زائد عمر کے ملازمین کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے، جبکہ 60 سال سے زائد عمر کے فلائٹ اٹینڈنٹس کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھ چکی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ زیادہ عمر کے ملازمین اپنے تجربے اور مختلف شعبوں میں حاصل کردہ مہارتوں کے ذریعے مشکل حالات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ملازمتوں میں عمر کے تعصب کا مسئلہ تاہم بدستور موجود ہے۔ متعدد بڑی عمر کی خواتین کا کہنا ہے کہ وسیع تجربے کے باوجود انہیں انٹرویوز کے مواقع نہیں ملتے۔ 52 سالہ سابق فیشن ایڈیٹر اسٹیسی ڈگوئڈ نے بھی 16 ماہ تک ملازمت کی تلاش اور 150 سی وی بھیجنے کے باوجود محدود ردعمل ملنے کا تجربہ شیئر کیا۔

ماہرین کے مطابق درمیانی عمر کے کارکنوں میں موجود تجربہ، پیشہ ورانہ پختگی اور سافٹ اسکلز کاروباری اداروں کے لیے اہم اثاثہ ہیں، جبکہ خواتین کے لیے کیریئر میں وقفے اور نگہداشت کی ذمہ داریاں دوبارہ ملازمت حاصل کرنے میں اضافی مشکلات پیدا کرتی ہیں۔

مختلف عمر کے ملازمین پر مشتمل ٹیمیں نہ صرف تجربے اور نئی سوچ کا امتزاج فراہم کرتی ہیں بلکہ اداروں میں سرپرستی اور باہمی تعاون کے مواقع بھی بڑھاتی ہیں۔ اسی وجہ سے کئی شعبوں میں عمر کے بجائے قابلیت اور تجربے کو ترجیح دینے کا رجحان تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے۔

More News