کے پی ٹیوٹا میں ڈیپوٹیشن افسران کی تعیناتیاں، مقامی افسران کو نظر انداز کرنے پر سوالات
خیبر پختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (کے پی ٹیوٹا) میں مختلف سرکاری محکموں سے افسران کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کا معاملہ زیرِ بحث آگیا ہے۔ ادارے سے متعلق حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک خودمختار ادارے میں اہم انتظامی عہدوں پر اندرونی افسران کے بجائے مختلف محکموں سے افسران کیوں تعینات کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹرانسپورٹ، اٹامک انرجی اور جنرل ایجوکیشن سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ افسران کے پی ٹیوٹا میں ڈیپوٹیشن پر آ رہے ہیں۔ اس صورتحال پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ادارے کے اہم عہدوں پر بیرونی محکموں سے افسران کی تعیناتی کا بڑھتا ہوا رجحان کس پالیسی کے تحت جاری ہے۔
کے پی ٹیوٹا کو فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے حوالے سے ایک اہم خودمختار ادارہ سمجھا جاتا ہے، جہاں ادارے کی ضروریات کے مطابق انتظامی فیصلے کیے جانے چاہئیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اہم عہدوں پر مسلسل دوسرے محکموں سے افسران تعینات کیے جائیں تو اس سے ادارے کے اپنے افسران اور ملازمین کے لیے ترقی کے مواقع محدود ہوسکتے ہیں۔
اندرونی افسران کو مواقع کیوں نہیں؟
ادارے سے متعلق حلقوں میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ کیا کے پی ٹیوٹا کے اندر موجود تجربہ کار افسران کو اہم انتظامی عہدوں کے لیے مناسب مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں یا زیادہ تر اہم پوسٹوں پر باہر سے افسران لانے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ادارے کے پاس متعلقہ شعبوں میں تجربہ رکھنے والا عملہ موجود ہے تو اہم عہدوں پر بیرونی محکموں کے افسران کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔
دوسری جانب ادارے کی مالی صورتحال بھی اس معاملے کو مزید اہم بنا رہی ہے۔ ادارے کی جانب سے مختلف قانونی معاملات میں مالی بحران اور اخراجات سے متعلق مؤقف سامنے آنے کے باوجود ڈیپوٹیشن پر افسران کی تعیناتیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ادارہ مالی دباؤ کا شکار ہے اور اخراجات کم کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تو ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی تعیناتیوں اور ان سے متعلق مالی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اضافی مراعات کا معاملہ
ذرائع کے مطابق بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ادارے میں ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کو بعض اضافی مالی مراعات یا الاؤنسز ملنے کے امکانات ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کسی حتمی دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی اور اصل صورتحال واضح کرنے کے لیے ادارے کی باضابطہ وضاحت ضروری ہے۔
اس حوالے سے یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ کیا ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کو ہیڈ آفس الاؤنس کے ساتھ سیکرٹریٹ الاؤنس یا دیگر اضافی مراعات بھی فراہم کی جاتی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ان مراعات کی منظوری کس ضابطے کے تحت دی جاتی ہے اور مالی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
باضابطہ وضاحت کا مطالبہ
متعلقہ حلقوں کا مطالبہ ہے کہ کے پی ٹیوٹا میں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کی تعداد، عہدوں، متعلقہ محکموں، تعیناتی کی مدت اور انہیں دی جانے والی تنخواہوں و مراعات کی تفصیلات واضح کی جائیں۔
اسی طرح یہ بھی بتایا جائے کہ ادارے کے اندر سے افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کرنے کے لیے کیا طریقہ کار موجود ہے اور کن وجوہات کی بنیاد پر بیرونی محکموں سے افسران کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔
کے پی ٹیوٹا جیسے فنی تعلیم کے اہم ادارے میں انتظامی شفافیت، میرٹ اور مالی نظم و ضبط نہ صرف ملازمین بلکہ ہزاروں طلبہ اور تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہیں۔
ادارے کی جانب سے ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں اور مالی مراعات سے متعلق واضح مؤقف سامنے آنے سے ان سوالات کی حقیقت مزید واضح ہوسکتی ہے۔







