سانس کے مریضوں کی مشکلات بڑھ گئیں، آکسیجن سلنڈر ہزاروں روپے مہنگے
پشاور میں آکسیجن سلنڈروں سمیت مختلف طبی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ طبی سامان مہنگا ہونے سے علاج معالجے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جبکہ گھروں میں آکسیجن استعمال کرنے والے مریضوں کے لیے علاج جاری رکھنا مزید مہنگا ہوگیا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق پشاور میں 48 کیوبک فٹ آکسیجن سلنڈر کی قیمت میں 3 ہزار روپے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 13 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح 55 کیوبک فٹ سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 4 ہزار روپے اضافے کے بعد یہ 14 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
آکسیجن کے علاوہ سرجیکل سامان، اینٹی بائیوٹکس، کینولا اور سرنجوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافے کی اطلاعات ہیں، جس سے مریضوں کے علاج کے اخراجات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سینے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا متعدد مریضوں کو گھروں میں آکسیجن استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایسے مریضوں کے لیے سلنڈروں کی قیمتوں میں اضافہ اضافی مالی بوجھ بن رہا ہے، خصوصاً ان خاندانوں کے لیے جنہیں مسلسل طبی سہولیات کی ضرورت ہے۔
طبی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے مریضوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر قیمتوں کی نگرانی اور ضروری طبی سامان کی مناسب قیمتوں پر دستیابی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔








