فواد چوہدری اور اسد عمر کی میڈیا سے گفتگو، حکومت پر سخت تنقید

فواد چوہدری اور اسد عمر کی حکومت پر کڑی تنقید، بجٹ اور معاشی پالیسیوں پر سوالات

لاہور:ویب ڈٰیسک

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے حکومت کی معاشی و سیاسی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے آئندہ بجٹ، معیشت کی صورتحال اور داخلی و خارجی امور پر متعدد تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے بھارت کی جانب سے مبینہ آبی جارحیت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت اس اہم مسئلے پر مؤثر ردعمل دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو اس معاملے پر اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز سے رجوع کرنا چاہیے۔

فواد چوہدری نے ملک کی داخلی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسئلے کا حل طاقت کا استعمال نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق ریاست کو مسلح عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے، تاہم اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے موجودہ سیاسی نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں چند سیاسی جماعتوں اور خاندانوں کی بالادستی کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف مسلسل پانچواں وفاقی بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں، لیکن حکومت عوامی مسائل کے حل اور مؤثر حکمرانی میں کامیاب نظر نہیں آتی۔

سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ملک کو آئینی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے اور نئے صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق آئندہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترے گا اور موجودہ معاشی پالیسیوں سے عام شہری کو خاطر خواہ ریلیف ملنے کا امکان کم ہے۔

اس موقع پر سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی حکومت کی معاشی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بجٹ پیش کرنے سے قبل حکومتی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو آبادی میں اضافے کی شرح سے کم ہے، جو معاشی چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے۔

اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں سرمایہ کاری کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور مہنگائی کے تناظر میں حکومت کی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اپنے بیانات میں حکومت کی معاشی و سیاسی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جامع اصلاحات، مؤثر پالیسی سازی اور عوامی اعتماد کی بحالی ناگزیر ہےa

More News