خیبر پختونخوا حکومت کے اہم انتظامی سطح پر ترقیاں، تبادلے اور نئی تعیناتیاں
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی بیوروکریسی میں اہم انتظامی تبدیلیاں کرتے ہوئے ترقیوں، تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ محکمہ انسانی وسائل و انتظامی امور (اسٹیبلشمنٹ) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعدد سینئر افسران کو اعلیٰ گریڈز میں ترقی دی گئی ہے، جبکہ بعض افسران کے تبادلے اور نئی ذمہ داریاں بھی مقرر کر دی گئی ہیں۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ طارق محمود کو گریڈ 19 میں ترقی دے دی گئی ہے۔ اسی طرح منیجنگ ڈائریکٹر ضم اضلاع ایجوکیشن فاؤنڈیشن فریحہ پال کو گریڈ 21 میں ترقی دی گئی ہے۔ حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں افسران کی ترقیاں صوبائی سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں منظور کی گئی ہیں اور ان پر فوری طور پر عملدرآمد ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ترقی پانے والے افسران کی آئندہ تعیناتیوں اور تبادلوں سے متعلق الگ اعلامیہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت مختلف محکموں میں انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی تقرریوں اور ذمہ داریوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کو بہتر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب محکمہ صحت میں بھی ایک اہم انتظامی تبدیلی کی گئی ہے۔ سپیشل سیکرٹری صحت طارق علی خان کا فوری طور پر تبادلہ کرتے ہوئے انہیں خیبر پختونخوا انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ ان کی تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
محکمہ انسانی وسائل و انتظامی امور کے مطابق ترقیوں، تبادلوں اور تقرریوں کے تمام احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات انتظامی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، مختلف محکموں میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے بہتر انداز میں استفادہ کرنے اور عوام کو بہتر سرکاری خدمات فراہم کرنے کے مقصد سے کیے گئے ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں بیوروکریسی اور مختلف سرکاری اداروں میں متعدد انتظامی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانا، شفاف طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا اور سرکاری محکموں کی کارکردگی میں مزید بہتری لانا ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ بھی ضرورت کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات اور تقرریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوامی خدمت کے نظام کو زیادہ مؤثر اور فعال بنایا جا سکے۔








