عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر سرمایہ کاروں کی گہری نظر
اسلام آباد: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز سے متعلق بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور توانائی کی عالمی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات قرار دیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی تیل مارکیٹ بلکہ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کی ایندھن کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 83.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی مہنگا ہوا اور 77.93 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ سپلائی سے متعلق خدشات اور جغرافیائی سیاسی عوامل کا نتیجہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور آئل ٹینکرز کے لیے نئے قواعد و ضوابط متعارف کرانے پر غور کر رہے ہیں۔ مجوزہ تجاویز کے تحت قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر کارگو کی مالیت کے 20 فیصد تک جرمانہ عائد کیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس نے عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی بڑی مقدار مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ، کشیدگی یا نئی پابندیوں کے امکانات عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں، عالمی قیمتوں میں اضافے سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ حکومت کی قیمتوں کے تعین کی پالیسی، ٹیکسز، لیوی اور عالمی مارکیٹ کے مجموعی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ فی الحال سرمایہ کار اور توانائی ماہرین آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آنے والے دنوں میں یہی عوامل عالمی تیل مارکیٹ کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔








