عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں پر دباؤ کا خدشہ
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جس سے پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے مشکلات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات اور اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے عالمی مارکیٹ میں تشویش پیدا کردی ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 2.57 فیصد اضافے کے بعد 85.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی 2.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 80.15 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے تعلقات کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی معمول پر آنے کے امکانات بھی مارکیٹ پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو متاثر کرسکتی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پاکستان کے لیے بھی اہم مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ ملک اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔
عالمی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، تاہم پاکستان میں حتمی قیمتوں کا فیصلہ دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔








