ہائیکورٹس ججز کی تعیناتیوں کا معاملہ، صدر مملکت نے سمریوں پر دستخط کردیے
سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کردی گئی
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی، مستقلی اور مراعات سے متعلق متعدد سمریوں کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ہائی کورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتیوں اور مستقلی کا معاملہ آگے بڑھ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت نے لاہور ہائی کورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سمری پر دستخط کردیئے۔ اسی طرح سندھ ہائی کورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی اور ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
صدر مملکت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سمری پر بھی دستخط کیے، جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کی مستقلی کی سمری بھی منظور کرلی گئی ہے۔
دوسری جانب صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے ججز کی مالی مراعات سے متعلق اہم سمری کی بھی منظوری دے دی۔ فیصلے کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کردی گئی ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں دونوں اعلیٰ عدالتی فورمز کے ججز کی مالی مراعات میں یکسانیت پیدا ہوگی۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ رخصت، پنشن اور مراعات آرڈر 1997 میں ترمیمی آرڈر پر بھی صدر مملکت نے دستخط کردیئے ہیں، جس سے ہائی کورٹ کے ججز سے متعلق رخصت، پنشن اور دیگر مراعات کے قانونی معاملات میں تبدیلیاں نافذ ہوں گی۔
مزید برآں ہارون اختر خان کی بطور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار تقرری کی سمری کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے 20 اور 21 جولائی کو ہونے والے اجلاسوں میں ہائی کورٹس کے لیے مجموعی طور پر 19 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سفارش کی گئی تھی۔ صدر مملکت کی جانب سے متعلقہ سمریوں کی منظوری کے بعد ججز کی نامزدگی اور تعیناتی کا معاملہ مزید واضح ہوگیا ہے۔
ججز کی تعیناتی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی کارروائی جاری تھی اور عدالت نے آج وفاق اور وزارت قانون سے جواب طلب کیا تھا۔ صدر مملکت کی جانب سے سمریوں پر دستخط کے بعد اس معاملے کی قانونی صورتِ حال پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔








