اگست میں مہنگائی دوبارہ دوہرے ہندسے میں داخل، عوام پر قیمتوں کا نیا بوجھ
اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کی شرح ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ دوہرے ہندسے میں داخل ہوگئی۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے اگست 2026 کے اعدادوشمار کے مطابق صارف قیمت اشاریہ کے تحت سالانہ مہنگائی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جولائی میں یہ شرح 9.2 فیصد تھی۔
مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ، پٹرولیم مصنوعات کی مہنگی قیمتیں اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے کرائے شامل ہیں۔ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے شہری اور دیہی دونوں علاقوں کے عوام کو متاثر کیا۔
اعدادوشمار کے مطابق اشیائے خورونوش میں ٹماٹر کی قیمت میں 128 فیصد، پیاز میں 125 فیصد، گندم میں 87 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 73 فیصد تک اضافہ رپورٹ کیا گیا۔ دودھ اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات بھی مہنگی ہوگئیں، جس سے عام شہری کا ماہانہ بجٹ مزید متاثر ہوا۔
دوسری جانب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہ راست ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پڑے، جس کے باعث کرایوں میں اضافہ ہوا اور مہنگائی کا بوجھ دیگر اشیائے ضروریہ تک بھی منتقل ہوگیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں ایندھن کی قیمتیں، مختلف ٹیکس، انتظامی فیصلے اور اشیائے ضروریہ کی رسد سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ حکومت کے لیے مالیاتی اہداف کے ساتھ ساتھ خوراک اور توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔







