حکومت نے پی ٹی آئی کو ایک بارپھر مذاکرات کی دعوت دے دی

حکومت نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دے دی

اسلام آباد: حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کی تجویز کردہ کسی بھی مقام پر مذاکرات کے انعقاد کے لیے آمادگی ظاہر کی گئی ہے تاکہ جاری سیاسی کشیدگی کا پرامن اور آئینی حل تلاش کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پی ٹی آئی کے چیف وہیپ عامر ڈوگر نے ملاقات کی، جس میں وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور مذاکرات کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی سے اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے پارلیمانی فورم پر مثبت کردار ادا کرے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی اور آئینی چیلنجز کا دیرپا حل صرف بامقصد مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کو مذاکرات کی دعوت دی جا چکی ہے، تاہم اب تک اس کا باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی ٹی آئی قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مذاکرات کے عمل میں شریک ہوگی اور سیاسی استحکام کے لیے مثبت قدم اٹھائے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف بدستور برقرار ہے کہ کسی بھی اہم سیاسی پیش رفت یا مذاکرات سے قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت ناگزیر ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے واضح کیا تھا کہ عمران خان کی مشاورت کے بغیر پارٹی کوئی بڑا سیاسی فیصلہ نہیں کر سکتی۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ جس طرح دیگر بڑی سیاسی جماعتیں اپنے قائدین کی مشاورت کے بغیر فیصلے نہیں کرتیں، اسی طرح پی ٹی آئی بھی بانی چیئرمین کی رائے کے بغیر مذاکرات یا کسی سیاسی معاہدے پر پیش رفت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ مذاکرات کی پہلی شرط عمران خان سے ملاقات اور مشاورت ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی میز پر آ جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف سیاسی کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ پارلیمانی عمل بھی مزید مؤثر ہو سکتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں دونوں فریقوں کی سنجیدگی اور اعتماد سازی کے اقدامات فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔

More News