سونے کی قیمت میں ہفتہ وار بنیادوں پر 5 فیصد سے زائد اضافہ، عالمی مارکیٹ میں تیزی برقرار
لندن: عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں جمعہ کے روز مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتی دھات جنوری کے بعد اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری کی جانب گامزن ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق رواں ہفتے کے دوران سونے کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد اضافہ سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور عالمی معاشی حالات کے باعث دیکھنے میں آیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد اضافے کے بعد 4,254.11 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں سونے کی قیمت سات ہفتوں کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,312 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان نے سونے کی طلب میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ چاندی کی قیمت 0.8 فیصد اضافے کے بعد 61.96 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ پلاٹینم 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 1,735.71 ڈالر فی اونس پر فروخت ہوا۔ دوسری جانب پیلیڈیم کی قیمت میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 1,367.06 ڈالر فی اونس پر آگئی۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور امن کی امیدوں نے عالمی مالیاتی منڈیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ اگرچہ جغرافیائی سیاسی خطرات میں کچھ کمی دیکھی جا رہی ہے، تاہم سرمایہ کار اب بھی سونے کو محفوظ سرمایہ کاری تصور کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں عالمی مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسی، امریکی اقتصادی اعدادوشمار، ڈالر کی قدر اور بین الاقوامی جغرافیائی صورتحال سونے کی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق اگر عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رجحان بھی قیمتوں کو سہارا دے سکتا ہے۔ عالمی مارکیٹ کے موجودہ رجحانات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ آئندہ ہفتوں میں بھی سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہ سکتی ہے۔








