وفاقی حکومت کا بجلی کے ٹرانسفارمرز کیلئے نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت کا بجلی کے ٹرانسفارمرز کیلئے نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی چوری کی روک تھام اور صارفین کو غیر ضروری لوڈشیڈنگ سے بچانے کیلئے بجلی کے ٹرانسفارمرز کو علیحدہ علیحدہ آن اور آف کرنے کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نئے نظام کے تحت بجلی چوری کی صورت میں پورے فیڈر کو بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ جس مخصوص ٹرانسفارمر سے بجلی چوری ہورہی ہو، صرف اسی ٹرانسفارمر کو بند کیا جاسکے گا۔

اویس لغاری کے مطابق اس نظام کا مقصد بجلی چوری کے خلاف کارروائی کو زیادہ مؤثر بنانا اور ان صارفین کو غیر ضروری مشکلات سے بچانا ہے جو باقاعدگی سے اپنے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں۔ موجودہ طریقہ کار میں بعض علاقوں میں بجلی چوری اور زیادہ نقصانات کی صورت میں پورے فیڈر کی بجلی بند کرنا پڑتی ہے، جس سے بجلی چوری نہ کرنے والے صارفین بھی متاثر ہوتے ہیں۔

وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ نئے نظام کیلئے ریگولیٹری فریم ورک آئندہ سال اپریل یا مئی تک فراہم کردیا جائے گا۔ اس کے بعد متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے نظام پر عملدرآمد کیلئے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

اویس لغاری نے ملک میں بجلی کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ اضافی لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی فراہمی کے حوالے سے موجودہ صورتحال میں کوئی ایسی اضافی لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی جس کا تعلق نئے نظام یا حکومتی فیصلے سے ہو۔

وفاقی وزیر نے نیٹ میٹرنگ سسٹم میں تبدیلی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس تبدیلی کے بعد بعض لوگوں نے بیٹریاں لگانا شروع کردی ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے حکومتی پالیسی میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد بجلی کے متبادل ذرائع اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام پر بھی صارفین کی توجہ بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں بجلی چوری اور بجلی کی تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات ایک عرصے سے توانائی کے شعبے کیلئے اہم چیلنج رہے ہیں۔ حکومت اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بجلی چوری میں کمی اور نظام کے نقصانات کو محدود کرنے کیلئے مختلف اقدامات کرتی رہی ہیں۔

نئے مجوزہ نظام کے تحت بجلی چوری والے مخصوص ٹرانسفارمر کو بند کرنے سے پورے فیڈر کی بجلی بند کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ اس طرح ایک ہی علاقے میں بجلی چوری کرنے والے صارفین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دیگر صارفین کیلئے بجلی کی فراہمی جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری کے بعد اس کے عملی طریقہ کار اور نفاذ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

More News