پشاور تعلیمی بورڈ نے فیسوں میں 148 فیصد تک اضافہ کردیا

پشاور تعلیمی بورڈ نے فیسوں میں 148 فیصد تک اضافہ کردیا

پشاور: پشاور تعلیمی بورڈ نے مختلف تعلیمی اور امتحانی خدمات کی فیسوں میں نمایاں اضافہ کردیا ہے، بعض فیسوں میں اضافے کی شرح 148 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس سے طلبہ اور والدین پر تعلیمی اخراجات کا مزید بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔

نئے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق ڈی ایم سی یا اصل سرٹیفکیٹ کی تصدیق کی فیس 805 روپے سے بڑھا کر 2 ہزار روپے کردی گئی ہے، یعنی اس مد میں 1195 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح ڈپلیکیٹ ڈی ایم سی کی فیس 805 سے بڑھا کر 1500 روپے جبکہ رجسٹریشن فیس 700 سے بڑھا کر 1300 روپے مقرر کردی گئی ہے۔

نویں جماعت کی امتحانی فیس 2530 سے بڑھا کر 3 ہزار روپے جبکہ دسویں جماعت کی فیس 2990 سے بڑھا کر 3200 روپے کردی گئی ہے۔

ایس ایس سی امپروومنٹ کی فیس بھی 2700 سے بڑھا کر 3600 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ گیارہویں جماعت کی امتحانی فیس 2875 سے بڑھا کر 3300 اور بارہویں جماعت کی فیس 3105 سے بڑھا کر 3600 روپے کردی گئی ہے۔

بورڈ کی جانب سے ایچ ایس ایس سی امپروومنٹ کی فیس میں بھی 1200 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ فیس 2800 سے بڑھ کر 4 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ یو ایف ایم فیصلوں کے خلاف اپیل کی فیس 1725 سے بڑھا کر 2 ہزار روپے جبکہ گریس مارکس کی فیس 345 سے بڑھا کر 600 روپے کردی گئی ہے۔

گیارہویں جماعت کی سپورٹس فیس بھی 200 سے بڑھا کر 350 روپے مقرر کی گئی ہے۔

فیسوں میں مجموعی اضافے کے بعد طلبہ اور والدین کی جانب سے اضافی مالی بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ تعلیمی اخراجات پہلے ہی کئی خاندانوں کے لیے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔

پشاور تعلیمی بورڈ کی جانب سے فیسوں میں اضافے کی تفصیلی وجوہات یا عوامی ردعمل کے حوالے سے مزید مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا

More News