کراچی کی 588 خطرناک عمارتوں نے ہزاروں مکینوں کو پریشان کر دیا، متبادل رہائش کا سوال برقرار

کراچی کی 588 خطرناک عمارتوں نے ہزاروں مکینوں کو پریشان کر دیا، متبادل رہائش کا سوال برقرار

سندھ کے مختلف اضلاع میں 741 مخدوش عمارتوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جن میں 588 کراچی میں موجود ہیں۔ شہر کی خطرناک عمارتوں میں 444 تاریخی ورثے کا حصہ ہیں، جس سے مکینوں کے تحفظ اور قدیم عمارتوں کی بحالی کا معاملہ مزید اہم ہو گیا ہے۔

کراچی میں پرانی اور مخدوش عمارتوں میں کئی دہائیوں سے رہائش پذیر خاندانوں کو بے دخلی کے خدشات کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 741 خطرناک عمارتیں موجود ہیں، جن میں 588 کراچی میں واقع ہیں۔ ان عمارتوں میں سے 444 تاریخی ورثے کا حصہ ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 28 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق 59 خطرناک عمارتوں کو مکینوں سے خالی کروانے جبکہ 39 کو منہدم کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ حیدرآباد میں 80 اور سکھر میں 50 عمارتوں کو بھی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

کراچی کے صدر کے علاقے میں ایمپریس مارکیٹ کے سامنے واقع تقریباً 90 سال پرانی عمارت کے ایک رہائشی گل شاہزیب کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان 50 سے 60 سال سے وہاں مقیم ہے۔ ان کے مطابق اچانک انہیں عمارت خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا اور چند دن میں گھر خالی کرنے کی ہدایت کی گئی۔

گل شاہزیب کا کہنا ہے کہ ان کے گھر میں خواتین اور بچے سمیت خاندان کے متعدد افراد رہتے ہیں، اس لیے فوری طور پر متبادل رہائش کا انتظام کرنا آسان نہیں۔ ان کے مطابق گھر سے متعلق دستاویزات بھی ان کے پاس موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے متبادل رہائش کے بارے میں سوال کیا تو انہیں مبینہ طور پر سڑک پر بیٹھنے کا مشورہ دیا گیا۔ ان کے مطابق کئی دہائیوں سے ایک ہی علاقے میں رہنے والے خاندان کے لیے اچانک گھر چھوڑنا محض رہائش تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ روزگار، تعلیم اور سماجی زندگی بھی اس سے جڑی ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہر پرانی یا خستہ حال عمارت کو لازماً خالی کروانا ضروری نہیں۔ بعض عمارتوں کو تکنیکی جائزے کے بعد مرمت اور بحالی کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

اربن ریسورس سینٹر کے جوائنٹ ڈائریکٹر زاہد فاروق کے مطابق کراچی کی بعض تاریخی عمارتیں مضبوط تعمیراتی معیار کی وجہ سے آج بھی محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرانی عمارتوں کو گرا کر بلند عمارتیں تعمیر کرنے کے بجائے ممکنہ طور پر بحالی کے راستے تلاش کیے جانے چاہییں۔

دوسری جانب حکام کے مطابق کسی عمارت کو خطرناک قرار دینے کے لیے تکنیکی ماہرین اور انجینیئرز پر مشتمل کمیٹی جائزہ لیتی ہے۔ تاریخی عمارتوں کے معاملے میں محکمہ نوادرات و آثار قدیمہ کا کردار بھی شامل ہوتا ہے۔

مکینوں کے وکیل عمران گجر کے مطابق کسی عمارت کو خطرناک قرار دینے یا منہدم کرنے کے لیے باقاعدہ قانونی اور تکنیکی طریقہ کار موجود ہے اور فیصلہ صرف ایک ادارہ اپنی مرضی سے نہیں کر سکتا۔

کراچی کی سیکڑوں مخدوش عمارتوں کا معاملہ شہریوں کے تحفظ، تاریخی ورثے کے تحفظ اور متاثرہ خاندانوں کے لیے متبادل رہائش کے درمیان توازن کا اہم سوال بن چکا ہے۔

More News