خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے ماڈل صوبے کا جنازہ، 3 کروڑ 92 لاکھ دستانے صرف کاغذوں میں تقسیم، اربوں غائب

خیبرپختونخوا میں طبی دستانوں کی خریداری کا ایک ارب روپے کا اسکینڈل، 3 کروڑ 92 لاکھ دستانے غائب ہونے کا انکشاف

سرکاری اسپتالوں کے لیے 4 کروڑ 35 لاکھ دستانوں کی خریداری، مہنگے داموں ادائیگی اور جعلی تقسیم کا الزام، اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا

پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت میں طبی دستانوں (ایگزامینیشن گلوز) کی خریداری میں مبینہ ایک ارب روپے کے بڑے مالی اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس نے صوبے میں سرکاری خریداری اور طبی سامان کی تقسیم کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق کروڑوں دستانوں کی خریداری اور مختلف اسپتالوں کو فراہمی ظاہر کی گئی، تاہم ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران بڑی تعداد میں دستانوں کی موجودگی اور تقسیم کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

تفصیلات کے مطابق فروری 2024 میں نگران حکومت کے دور میں صوبے کے سرکاری اسپتالوں کے لیے 4 کروڑ 35 لاکھ ایگزامینیشن گلوز خریدنے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس مقصد کے لیے فروری اور مارچ 2024 میں مجموعی طور پر 98 کروڑ 39 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق خریداری میں قیمتوں کے تعین پر بھی سوالات سامنے آئے ہیں، کیونکہ مارکیٹ میں 100 دستانوں کے ایک ڈبے کی قیمت تقریباً 700 روپے بتائی گئی، جبکہ سرکاری سطح پر یہی ڈبہ 2 ہزار 260 روپے میں خریدا گیا۔

سرکاری ریکارڈ میں دعویٰ کیا گیا کہ 30 لاکھ دستانے پشاور کے متنی کیٹیگری ڈی اسپتال، 30 لاکھ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال باجوڑ اور ایک کروڑ 92 لاکھ 30 ہزار دستانے شمالی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو فراہم کیے گئے تھے۔

تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے متعلقہ افسران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بڑی تعداد میں دستانوں کی وصولی سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد مبینہ طور پر جعلی انوائسز اور کاغذی کارروائی کے ذریعے طبی سامان کی تقسیم ظاہر کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔

مزید تحقیقات کے دوران ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے گودام کا معائنہ کیا گیا، جہاں صرف 43 لاکھ دستانے موجود پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق باقی 3 کروڑ 92 لاکھ دستانوں کی موجودگی یا تقسیم کا قابلِ تصدیق ریکارڈ سامنے نہیں آسکا۔

معاملے کی سنگینی کے پیش نظر محکمہ صحت کی ابتدائی انکوائری کے بعد محکمہ انسداد بدعنوانی (اینٹی کرپشن) نے بھی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ متعلقہ ادارے نے خریداری، ادائیگیوں، تقسیم کے ریکارڈ، انوائسز اور اس وقت تعینات افسران کی تفصیلات طلب کرلی ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔

اس اسکینڈل نے سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی، سرکاری فنڈز کے استعمال اور نگرانی کے نظام پر اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں کون ذمہ دار قرار پاتا ہے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کی وصولی کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔

More News