پتنگ کی ڈور پھرنے سے 23 سالہ نوجوان زخمی، سروسز ہسپتال منتقل
لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں پتنگ بازی پر عائد پابندی کے باوجود اس خطرناک سرگرمی کے باعث شہریوں کی جانیں مسلسل خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ تازہ واقعہ غالب مارکیٹ کے علاقے میں پیش آیا جہاں پتنگ کی لٹکتی ہوئی ڈور ایک 23 سالہ نوجوان کے گلے پر پھر گئی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی نوجوان کی شناخت حارث کے نام سے ہوئی ہے، جو غالب مارکیٹ روڈ سے گزر رہا تھا کہ اچانک سڑک پر لٹکی ہوئی پتنگ کی ڈور اس کے گلے سے ٹکرا گئی۔ ڈور لگنے سے نوجوان زخمی ہو گیا، جس کے بعد فوری طور پر ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے اسے سروسز ہسپتال منتقل کر دیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمی نوجوان کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی گئیں اور اس کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈور زیادہ تیز ہوتی یا بروقت علاج نہ ملتا تو حادثہ سنگین صورت اختیار کر سکتا تھا۔
دوسری جانب ایس پی ماڈل ٹاؤن اسد علی نے بتایا کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے پتنگ بازی اور پتنگ سازی پر مکمل پابندی عائد ہے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صرف رواں ماہ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں پتنگ بازی سے متعلق 26 مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ پتنگ بازی اور پتنگ سازی میں ملوث 26 افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق حکومتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔
شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ بازی کے خلاف مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ہر سال پتنگ کی دھاتی یا کیمیکل ملی ڈور کے باعث متعدد افراد زخمی یا جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جس کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں








