امریکی ایوانِ نمائندگان میں نئی تاریخ رقم، ڈیموکریٹس کی 100 سے زائد خواتین کامیاب

امریکی ایوانِ نمائندگان میں نئی تاریخ رقم، پہلی بار 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کامیاب

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی خواتین امیدواروں نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی۔ انتخابی نتائج کے مطابق پہلی مرتبہ 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین بیک وقت امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن بننے جا رہی ہیں، جسے امریکی سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

نیو میکسیکو سے تعلق رکھنے والی رکنِ کانگریس اور ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کی سربراہ ٹریسا لیگر فرنانڈیز نے اس کامیابی پر اپنے بیان میں کہا کہ خواتین نے اپنے ووٹوں کے ذریعے تاریخ رقم کی ہے۔ ان کے مطابق 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کا ایوانِ نمائندگان تک پہنچنا خواتین کی سیاسی جدوجہد کا اہم نتیجہ ہے۔

ٹریسا لیگر فرنانڈیز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور ری پبلکنز کے ایجنڈے کے اثرات کا خواتین نے بھی سامنا کیا، تاہم حالیہ انتخابات میں انہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کے انتخابی ونگ الیکٹ ڈیموکریٹک ویمن نے انتخابی مہم کے آغاز ہی سے ایوانِ نمائندگان میں 100 خواتین کو کامیاب کرانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ فلوریڈا سے رکنِ کانگریس اور تنظیم کی بانی رکن لوئس فرینکل کے مطابق یہ ہدف حاصل ہونا ایک اہم علامتی کامیابی ہے، تاہم تنظیم کی خواہش اس سے زیادہ خواتین کو کامیاب کرانے کی تھی۔

اس کامیابی کے پیچھے کئی دہائیوں کی سیاسی جدوجہد، خواتین امیدواروں کی تیاری اور انتخابی مہمات کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ ایملی لسٹ سمیت مختلف تنظیموں نے ڈیموکریٹ خواتین امیدواروں کو انتخابی میدان میں آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ ایملی لسٹ کی صدر جیسیکا میکلر کے مطابق خواتین کو مناسب مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ کامیاب انتخابی مہم چلا سکتی ہیں۔

حالیہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کی حاصل کردہ 40 نشستوں میں سے 18 پر خواتین امیدوار کامیاب ہوئیں۔ انتخابی مہمات میں مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور بدعنوانی کے تاثر جیسے معاملات بھی زیر بحث رہے۔ بعض خواتین امیدواروں نے اپنی ہی جماعت کے موجودہ ارکان کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔

جارجیا کی جیسمین کلارک، کولوراڈو کی میلات کیروس اور نیویارک کی داریا لیزا اویلا شیوالیے بھی کامیاب امیدواروں میں شامل ہیں۔ جیسمین کلارک کانگریس کی پہلی سیاہ فام خاتون پی ایچ ڈی سائنس دان ہوں گی، جبکہ میلات کیروس کولوراڈو کی نمائندگی کرنے والی پہلی سیاہ فام خاتون اور کانگریس کی پہلی جنریشن زی خاتون رکن بنیں گی۔

واضح رہے کہ خواتین امریکی آبادی کا تقریباً نصف ہیں، تاہم کانگریس میں ان کی نمائندگی اب بھی تقریباً 28 فیصد ہے۔ 1917 میں جینیٹ رینکن امریکی کانگریس کی پہلی خاتون رکن منتخب ہوئی تھیں۔ ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط جدوجہد کے بعد 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کی کامیابی امریکی سیاست میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

More News