سرکاری ادویات و آلات جراحی اسکینڈل، سابق ڈی ایچ او لوئر دیر ڈاکٹر ارشاد کی عبوری ضمانت خارج، نیب نے گرفتار کرلیا
پشاور ہائیکورٹ نے سرکاری ہسپتالوں کے لیے ادویات اور آلات جراحی کی خریداری میں مبینہ اربوں روپے کے غبن کے مقدمے میں نامزد سابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) لوئر دیر ڈاکٹر ارشاد کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کردی، جس کے بعد نیب اہلکاروں نے ملزم کو عدالت سے ہی حراست میں لے لیا۔
درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر ارباب کلیم اللہ پیش ہوئے اور عدالت کو مقدمے کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔
نیب پراسیکیوٹر کے مطابق خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں کے لیے ادویات اور آلات جراحی کی خریداری کے دوران ایک ارب روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن کی گئی۔ ملزم نے ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ کے اضافی فرائض انجام دیتے ہوئے مبینہ طور پر فراڈ میں نامزد دیگر افراد کی سہولت کاری کی۔
نیب کے مطابق درخواست گزار نے انسپکشن کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے مخصوص نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے معائنے کے عمل میں جان بوجھ کر بے ضابطگیاں کیں۔ خریداری کے لیے جعلی واؤچرز تیار کیے گئے، جن پر دستخطوں میں ملزم کے دستخط بھی شامل تھے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ جعلی واؤچرز کے ذریعے ایک ارب روپے سے زائد رقم نکلوائی گئی، تاہم متعلقہ ہسپتالوں کو ادویات اور آلات فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کارروائیوں سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر ایک ارب 18 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔
عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد نیب نے ڈاکٹر ارشاد کو گرفتار کرلیا۔ نیب حکام کے مطابق ملزم کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔








