فضل الرحمان کے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کے اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ، ایف بی آر کو درخواست موصول

فضل الرحمان کے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کے اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ، ایف بی آر کو درخواست موصول

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کے مبینہ اثاثوں اور ٹیکس معاملات کی جانچ پڑتال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے رجوع کر لیا گیا۔ درخواست میں اربوں روپے کے مبینہ اثاثوں، ٹیکس گوشواروں اور آمدن کے ذرائع کی تفصیلات طلب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کو مولانا فضل الرحمان اور ان سے متعلقہ افراد کے اثاثوں اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے درخواست موصول ہوئی ہے۔ درخواست میں کامران مرتضیٰ، لطف الرحمان، ضیاء الرحمان، اسد محمود اور ابرار احمد خان کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ افراد کے اثاثوں، جائیدادوں اور مالی معاملات کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے تاکہ ان کی آمدن، ظاہر کردہ دولت اور ٹیکس گوشواروں میں مطابقت کا جائزہ لیا جا سکے۔

درخواست میں ایف بی آر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ افراد کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات، آمدن کے ذرائع، ٹیکس ادائیگیوں اور مالی ریکارڈ کی چھان بین کی جائے۔ اس کے علاوہ اگر کسی قسم کی ٹیکس بے ضابطگی یا غیر ظاہر شدہ اثاثوں کی نشاندہی ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

دستاویز میں لگائے گئے الزامات تاحال ثابت نہیں ہوئے اور نہ ہی محض درخواست موصول ہونے سے کسی فرد کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے۔ معاملے کی حقیقت کا تعین متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایف بی آر اس درخواست پر کیا کارروائی کرتا ہے اور کیا متعلقہ افراد کے اثاثوں اور ٹیکس ریکارڈ کی باضابطہ جانچ پڑتال شروع کی جاتی ہے

More News